اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس اور ترکی کے سربراہان مملکت نے شام اور عراق کی جغرافیائی سالمیت کے احترام اور تحفظ پر زور دیا ہے.
ان خیالات کا اظہار ترک صدر 'رجب طیب اردوان' اور ان کے روسی ہم منصب 'ولادیمیر پوٹن' نے گزشتہ روز انقرہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر ترک صدر نے کہا کہ ترکی اور روس شامی مسائل کے سیاسی حل کے حوالے سے باہمی قریبی تعلقات کے تسلسل پر اتفاق کرکے اور خطی مسائل سمیت شام اور عراق کی علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں.
رجب طیب اردوان نے عراقی کردستان کے ریفرنڈم کو اس ملک اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے عراقی کردستان کے اعلی حکام نے بڑی انتباہوں کے باوجود ایسے غلطی اقدام کیا.
انہوں نے عراقی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے عالمی برادری کے ردعمل کی اہمیت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عراقی کردستان کی بڑی غلطیوں کے تسلسل کی روک تھام کرنا چاہیئے.
انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ تعمیری ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی تبدیلیوں کے جائزے لینے کے حوالے سے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہیں.
روسی صدر نے شام میں امن زونز کے قیام کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں امن زونز کے قیام کی تک رسائی جینوا میں مذاکرات کی کامیابی کی مدد کرسکا.
پوٹن نے شامی بحران کے حل اور امن زون کے قیام کے حوالے سے اپنے ترک ہم منصب اردوان کے ساتھ باہمی بات چیت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوچی شہر میں منعقدہ مذاکرات کے دوران تمام مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی اس حوالے سے اہم کامیابی حاصل کرسکے.
انہوں نے شامی شہریوں کی بہتری صورتحال کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام میں امن زونز کے قیام کے ساتھ اقوام متحدہ کی نگرانی کے ذریعہ جینوا کے امن مذاکرات تیزی سے انجام ہو رہا ہے.
روسی صدر نے عراقی کردستان کے ریفرنڈم کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے فوجی اور انٹیلی جنسی باہمی تعاون کے تسلسل پر اتفاق کیا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲